ایران امریکہ جنگ بندی معاہدہ ۲۰۲۶ء: مئی کی جنگ کے بعد تاریخی دستخط

Must read

ایران اور امریکہ نے گیارہ جون دو ہزار چھبیس کو جنیوا میں ایک تاریخی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے — یہ معاہدہ مئی دو ہزار چھبیس میں شروع ہونے والی اس خونریز جنگ کا خاتمہ ہے جو جدید تاریخ میں ان دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی تصادم تھی۔

پسِ منظر: مئی دو ہزار چھبیس کی جنگ

کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب مئی دو ہزار چھبیس کے اوائل میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — پر زبردست فضائی حملے کیے۔ ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے اور اسرائیلی علاقوں پر ڈرون حملے کیے۔ یہ جنگ بائیس روز تک جاری رہی، جس کے بعد چین، روس اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مشترکہ سفارتی کوششوں نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھایا۔

معاہدے کی اہم شرائط

  • فوری جنگ بندی: گیارہ جون دو ہزار چھبیس کو رات بارہ بجکر ایک منٹ جی ایم ٹی پر تمام فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کر دی گئیں۔
  • جوہری پروگرام کی معطلی: ایران نے کم از کم پانچ برس کے لیے یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو تمام جوہری مقامات تک غیر محدود رسائی دی جائے گی۔
  • امریکی پابندیوں کا خاتمہ: واشنگٹن نے معاہدہ نافذ ہونے کے پینتالیس روز کے اندر ایران کے تیل، بینکاری اور تجارت پر عائد تمام ثانوی پابندیاں اٹھانے کا عہد کیا۔
  • قیدیوں کا تبادلہ: دونوں ممالک نے پندرہ دنوں کے اندر جنگ کے دوران گرفتار تمام فوجی اور سویلین قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا۔
  • حکومت تبدیلی کی یقین دہانی نہیں: امریکہ نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ ایران کی حکومت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش میں نہ حصہ لے گا اور نہ کسی کی معاونت کرے گا — یہ ایران کا سب سے اہم مطالبہ تھا۔
  • تعمیرِ نو کا فنڈ: یورپی یونین اور خلیجی ممالک کی مشترکہ سرپرستی میں دس ارب ڈالر کا ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کیا جائے گا جو ایران کی تباہ شدہ شہری تعمیرات کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا۔

دستخطی تقریب

معاہدے پر دستخط کی تقریب گیارہ جون دو ہزار چھبیس کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوئی جہاں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بطور گواہ موجود رہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے دستخط کیے۔

عالمی ردِّعمل

دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس معاہدے کو خوش آمدید کہا۔ پاکستان کی دفترِ خارجہ نے اسے ”خطے کے استحکام کے لیے سکون کا پیغام” قرار دیا جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے احتیاطی امید کا اظہار کیا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کو تسلیم تو کیا، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کیں تو اسرائیل ”آزادانہ طور پر اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔” عالمی تیل کی منڈیوں میں اس خبر کے بعد چھ فیصد سے زائد گراوٹ آئی اور برینٹ خام تیل چوہتر ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔

آگے کیا ہوگا؟

بیس جولائی دو ہزار چھبیس کو جنیوا میں ایک اور سفارتی اجلاس طے ہے جس میں ایک مستقل جوہری معاہدے کے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ امریکی سینیٹ اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو موجودہ معاہدے کی توثیق تیس دنوں کے اندر کرنا ہوگی تاکہ یہ مکمل قانونی حیثیت اختیار کر سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ، خواہ کتنا ہی نازک کیوں نہ ہو، انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات میں سب سے بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

More articles

Latest article